لکھنؤ ،23؍اگست(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) اتر پردیش قانون ساز کونسل کا مانسون سیشن جمعرات کو شروع ہو گیا۔ کونسل میں بھی پہلے دن سابق وزیرا عظم اٹل بہاری واجپئی کے انتقال پر تعزیتی تجویز پیش کی گئی۔ اس دوران ایوان بالا میں تمام پارٹیوں کے لیڈروں نے اٹل جی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی کو 27اگست تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ۔
قانون ساز کونسل میں لیڈر ایوان ڈاکٹر دنیش شرما نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے درمیان اب نہیں ہیں ۔ ان کی کمی تا حیات کھلے گی۔ اٹل جی اتنے مقبول تھے کہ مخالف پارٹی کے لوگ بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ یہ بات ان کی آخری یاترا میں نظر آئی۔80کی عمر پار کرنے والے کئی بڑے مخالف پارٹیوں کے لیدر ان کی آخری یاترا میں نظر آئے ۔ اٹل جی بہت بڑ دل کے لیڈر تھے ۔ وہ کوی،صحافی اور بڑے سیاسی لیڈر رہے۔ وہ بچوں سے پیار ،بزرگوں کا احترام اور کامیاب منتظم تھے ۔ ان کی زندگی ہمیشہ شفاف رہی۔ حزب اختلاف کے لیڈر احمد حسن نے کہا کہ اٹل جی کے انتقال سے ہماری مکمل پارٹی رنجیدہ ہے ۔ ان کے غمزدہ اہل خانہ کو ایشور اس گھڑی میں صبر عطا کرے۔ ہمارے نگراں اور قومی صدر دونوں بھی اس مصیبت کی گھڑی میں ساتھ رہے ۔ بی ایس پی کے لیڈر دنیش چندرا نے کہا کہ اٹل جی بہت بڑے لیڈر رہے ۔ وہ سب کا احترام کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنی سادگی کو پیش کیا ۔ مال و دولت اور ،طاقت کے بغیر کیسے الیکشن لڑا جاتا ہے اس کی واضح مثال پیش کیا ۔
کارگل اور پوکھرن جیسے تمام بڑے ملک کے مفاد کے کام کئے ہیں ۔ یقیناًہی ملک کے لئے یہ بڑا نقصان ہے جسے پورا نہیں کیا جا سکتا ہے۔کانگریس لیڈر دیپک سنگھ نے کہا کہ اٹل جی کے بارے میں جتناپڑھا جائے وہ کم ہیں۔ ان کی نظمیں زندگی کو تحریک دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عہدے کا کبھی غلط استعمال نہیں کیا جائے ۔ اپنا دل کے آشیش سنگھ پٹیل نے کہا کہ ان کی نظموں میں پوری زندگی کا فلسفہ موجود ہے وہ بڑے دل کے لیڈر تھے اس لئے ان کا احترام تمام پارٹیاں کرتی ہیں۔ چیئر مین رمیش یادو نے کہا کہا ٹل جی ایک کرشمائی لیڈر اور محبوب چہرے رہے وہ زبر دست مقرر تھے ۔ تین بار ہندوستان کے وزیرا عظم بنے۔ اس موقع پر ان کے علاوہ دیگر پارٹیوں کے لیڈروں نے میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔